تہران،10؍ستمبر(ایس اونیوز؍آئی این ایس انڈیا) ایران کی ایٹمی توانائی کی ایجنسی کے سربراہ علی اکبر صالحی نے دھمکی دی ہے کہ اگر امریکا نیوکلیئر معاہدے سے نکلا تو ان کا ملک اپنے نیوکلیئر پروگرام کی اسی پوزیشن پر لوٹ جائے گا جس پر وہ جولائی 2015 میں تہران اور 51 ممالک کے درمیان دستخط کیے جانے والے معاہدے سے قبل تھا۔جرمن اخبار Der Spiegel کے ساتھ خصوصی گفتگومیں صالحی نے واضح کیا کہ نیوکلیئر معاہدے سے امریکا کے نکل جانے کی صورت میں بھی ایران اس معاہدے کی پاسداری جاری رکھنا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر امریکا معاہدے سے نکلتا ہے اور باقی ممالک اس کی پاسداری کرتے ہیں تو اس بات کا امکان ہے کہ ایران اپنے وعدوں کا پابند رہے گا.. البتہ اگر امریکا کے نکلنے کے بعد یورپ بھی اس کے نقشِ قدم پر چلا تو پھر یہ معاہدہ مکمل طور پر ناکامی سے دوچار ہوگا اور ایران بھی اپنی پرانی پوزیشن پر لوٹ جائے گا۔ایرانی ایٹمی توانائی ایجنسی کے سربراہ نے امریکا پر الزام عائد کیا کہ وہ تجارتی فضاؤں کو زہر آلود کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ "یہ معاملہ بزورِ طاقت بینکوں اور بڑی کمپنیوں کو ایران کے ساتھ تعاون پر مجبور نہیں کرے گا بلکہ اس سے خوف اور اندیشے پیدا ہوں گے تاہم درحقیقت امریکا اس سے زیادہ کچھ کر بھی نہیں سکتاہے۔یاد رہے کہ صالحی نے گزشتہ ماہ "فردو" ایٹمی تنصیب میں 5 روز کے لیے 20 فی صد کی شرح سے یورینیئم کی افزودگی کا عمل دوبارہ شروع کرنے کی دھمکی دی تھی۔ادھر ایرانی صدر حسن روحانی نے بھی امریکا کو دھمکی دی تھی کہ اگر واشنگٹن نے تہران پر نئی پابندیاں عائد کرنے کا سلسلہ جاری رکھا تو ایران نیوکلیئر معاہدے کو منسوخ کر دے گا اور اپنا نیوکلیئر پروگرام دوبارہ سے شروع کر دے گا۔اقوام متحدہ میں امریکی خاتون مندوب نکی ہیلی یہ کہہ چکی ہیں کہ اگرایرانی عسکری ٹھکانوں کا معائنہ بقول تہران محض ایک خواب ہے تو پھر نیوکلیئر معاہدے کے حوالے سے ایرانی تعمیل بھی ایک خواب ہے۔